11-04-2018

سپریم کورٹ نے قلعہ عبداللہ میں کمسن بچی کی بوڑھے شخص سے زبردستی شادی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران نکاح کے دعویدار70 ملزم دین محمد اور ساتھی کی گرفتاری اورملزموں کو 23 اپریل تک پیش کرنے  کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

 چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار  کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں قلعہ عبداللہ میں کمسن بچی کی بوڑھے شخص سے زبردستی شادی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار اپنی 10 سالہ بہن کے ساتھ عدالت میں پیش ہوا اور  عدالت کو بتایاکہ میری بہن کی شادی نہیں ہوئی،بلکہ زبردستی کی جارہی ہے  جبکہ ملزم کیخلاف مقدمہ درج ہے مگر پولیس گرفتارنہیں کررہی،اورہمیں سرعام دھمکیاں دی جارہی ہیں۔چیف جسٹس پاکستان  نے 10 سالہ بچی نرگس اور اس کے اہلخانہ کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ملزموں کو 10 دن میں گرفتارکرکے پیش کرنے کاحکم دے دیا اور کیس کی  سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی۔