17-11-2017

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی انتخابات ایکٹ ترمیمی بل دوہزار سترہ  اتفاق رائے سے منظور کرلیا ہے۔ ترمیمی بل کے ذریعے انتخابات ایکٹ 2017 میں 48 الف شامل کی گئی ہے۔

ترمیمی بل کے تحت آئین میں قادیانیوں کی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی۔ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنے والے شخص کے غیر مسلم ہونے کی حیثیت برقرار رہے گی۔ ووٹرلسٹ میں درج کسی شخص پر منکر ختم نبوت ہونے کا اعتراض اٹھے تو اسے 15 دن میں طلب کیا جائیگا۔  ترمیمی بل کے تحت جس شخص پر منکر ختم نبوت ہونے کا شبہ ہو وہ شخص اقرار نامے پر دستخط کرے گا کہ وہ ختم نبوت پرایمان رکھتا ہے۔ اگر وہ شخص اقرار نامے پر دستخط سے انکار کرے تو اسے غیر مسلم تصور کیا جائے گا اور اس کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا کر غیر مسلم کے خانے میں لکھا جائے گا۔