09-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے سی پیک میں مغربی روٹ اور ترقیاتی منصوبوں کو شامل کرنے کے لئے سپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے دائر رٹ پروفاقی حکومت کو دو مارچ تک جواب جمع کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ سی پیک منصوبہ دو ہزار پندرہ میں منظور ہوا اور وفاق نے اس کے مغربی روٹ کے حوالے سے فنڈز کا جو حصہ مختص کیا تھا اس کی حمایت میں خیبر پختونخوا اسمبلی دو قراردادیں منظور کر چکی ہے تاہم مشرقی روٹ کی بااثر اور مضبوط لابی مغربی روٹ کا فنڈ اور بڑے منصوبے اب مشرقی روٹ کی جانب منتقل کر رہے ہیں اور اس حوالے سے صوبائی حکومت میں تشویش پائی جاتی ہے ۔اور اب معلوم ہوا ہے کہ سی پیک کے منصوبے سے مغربی روٹ کو نکال لیا گیا ہے اور متبادل روٹ شامل کیا گیا ہے اور بجائے انڈس ہائی وے کے یہ صرف ڈیرہ اسماعیل خان سے گزرے گا اس طرح بدنیتی کی بناء پر دہشت گردی سے متاثرہ صوبے کو نظر انداز کر دیا گیا ہے ۔ دائر رٹ میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وزیر اعظم پاکستان کے اعلانات پر عمل درآمد کرانے اور مغربی روٹ کو سی پیک کے منصوبے میں شامل کرنے احکامات جاری کئے جائیں ۔عدالت نے وفاقی حکومت کو دو مارچ تک جواب جمع کرانے جبکہ درخواست گزار کے وکیل کو اپنے جواب کی نقول فراہم کرنے کے احکامات جاری کرکے سماعت ملتوی کردی ۔