17-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے سی پیک منصوبے بارے دائر رٹ درخواست پر اٹارنی جنرل پاکستان سے جواب طلب کیا ہے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں زیر بحث لایا گیا ہے یا نہیں ؟

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ سی پیک منصوبہ معاشی ترقی کےلئے گیم چینجر منصوبہ ہے اور اس پر صوبہ خیبر پختونخوا کا اتنا ہی حق ہے جتنا پنجاب یا دیگر صوبوں کا ہے تاہم اس منصوبے کے حوالے سے جو وعدے صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ کئے گئے تھے ان کوپورا نہیں کیا گیا اور سی پیک سے ایک صوبے کو ہی زیادہ نوازا جا رہا ہے جو کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبے کا کردار ادا کرنے اور قربانیاں دینے والے صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ سراسر زیادتی ہے لہذا صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو ایفا کیا جائے۔

عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ درخواست گزار کے تحفظات کو دیکھتے ہوئے ایشو کو مشترکہ مفادات کونسل بھجوانا چاہیے تھا ۔ عدالت نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کرکے ستائیس اپریل تک جواب جمع کرانے کے احکامات جاری کر دیئے ۔