26-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے کے الزام میں سزا یافتہ شکیل آفریدی کو صوبہ یا ملک کی کسی دوسری جیل میں منتقل کرنے یاپھر ممکنہ طور پر ممکنہ طور پر امریکہ کو حوالگی سے روکنے کےلئے دائر رٹ پر درخواست گزار سے رٹ کے قابل سماعت ہونے سے متعلق جواب طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی پشاور جیل میں قیدی کی حیثت سے قید کاٹ رہا ہے اور حکومت اسے ملک کی کسی دوسرے جیل میں منتقل کرنا چاہتی ہے لہذا حکومت حکم جاری کریں کہ اس وقت کسی دوسری جیل میں منتقل نہ کیا جائے یا ان کو امریکہ کے حوالے نہ کیا جائے اور اگر حوالے کرنا ہے تو عدالت سے اجازت لی جائے۔

عدالت نے اس ضمن میں قانونی معاونت کےلئے درخواست گزار وکیل سے جواب طلب کرکے سماعت ملتوی کردی ۔