03-05-2017

  پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج صحافت کا عالمی دن منایاجارہا ہے جس کا مقصد آزادی صحافت اور صحافت کے بنیادی اصولوں کی اہمیت کا اجاگر کرنا ہے ۔

 اس سال صحافت کے عالمی دن کو منانے کامرکزی خیال ہے” نازک حالات میں تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد اور پُرامن اورمنصفانہ معاشرے کیلئے ذرائع ابلاغ کاکردار”

ماہرین کے مطابق اس دن کو منانے کا مقصد جہاں آزادی صحافت کی اہمیت افادیت صحافتی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالنا ہے وہاں معاشرے میں حق اور سچ کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عوام میں سیاسی مذہبی اور اخلاقی و سماجی شعورکی آگاہی بھی فراہم کرنا ہے۔عالمی یوم آزادی صحافت کا آغاز 1991سے نمیبیا سے شروع ہوا۔ صحافت معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، اگرسچائی کے ساتھ کی جائے۔دنیا بھر میں صحافیوں نے حقائق کی تشہیر ، خبر کے حصول اور دوران ڈیوٹی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں ۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 110 صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران مارے گئے ۔ شام اور عراق صحافیوں کے لیے خطرناک ترین جبکہ ایشیا میں بھارت صحافیوں کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔ دنیا کے کئی ممالک میں آزادی صحافت پر مکمل جبکہ متعدد ممالک میں جزوی پابندی عائد رہی۔