01-06-2017

صدرمملکت ممنون حسین نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت نے بڑے نشیب و فراز دیکھے ، مقاصد کے حصول کے لیے سفر جاری ہے ، چیلنجز کے باوجود پارلیمنٹ نے اپنی فیصلہ کن حیثیت برقرار رکھی ، پارلیمنٹ قومی اتحاد بن کر ابھری ، جمہوریت نے قوم کی حمایت سے بڑے معرکے طے کیے ، سیاسی عمل کو انفرادی اور گروہی مفادات سےآزاد ہونا چاہیے ، پارلیمنٹ نےمشکل حالات میں قومی اتحاد کا ثبوت دیا ، تاریخ اس پارلیمنٹ کا کردار ہمیشہ یاد رکھے گی۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ بھارت سے تمام مسائل کا حل مذاکرات سے چاہتے ہیں ، بھارت نے خطے کے حالات خراب کیے ، جاسوسی اور دہشتگردی کو فروغ دیا ، ہمسایہ ملک خطے کے امن و امان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ، کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم جاری ہیں ، کشمیری بھائیوں کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے ، مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے استصواب رائے کے حق سے ہے ، بھارت کے جارحانہ طرز عمل کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔صدر مملکت کے ایوان کے آئینی خطاب کے موقع پر اپوزیشن نے ان کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔