06-07-2017

سپریم کورٹ  کے جج جسٹس گلزار احمد کہا ہے کہ صرف چھوٹوں کے خلاف کارروائی سے کام نہیں چلے گا ،بڑی مچھلیوں کو تو پکڑا ہی نہیں جارہا ۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جرائم میں ملوث پولیس کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی سے متعلق کیس سماعت ہوئی۔جہاں سپریم کورٹ کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی نے عبوری رپورٹ جمع کرائی ،جس پر عدالت نے بڑے افسران کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے صرف اہلکاروں اور اے ایس آئیز کے خلاف کارروائی ہورہی ہے،چھوٹے اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے کام نہیں چلے گا بڑی مچھلیوں کو پکڑیں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا اعلیٰ افسران کے خلاف سول سرونٹس ایکٹ کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے،جس پر عدالت نے کہا ڈی آئی جی رینک کے افسران کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیئے۔عدالت نے تحقیقاتی کمیٹی کو ڈی آئی جی رینک کے افسران کے خلاف بھی انکوائری کی بھی اجازت دے دی۔عدالت نے 2ہفتے میں پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔