27-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے بجلی پیدا کرنے والی صنعتوں سے محکمہ ریونیو اتھارٹی کی جانب سے ٹیکس نوٹس بھجوانے پر خیبر پختونخوا حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس روح الاآمین خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے  مختلف صنعتوں کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ صوبائی حکومت کے محکمہ ریونیو اتھارٹی نے کارخانہ داروں کو نوٹس جاری کیا ہے کہ جو کارخانے پانچ سو کلو واٹ تک اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں ان سے اس بجلی کی پیداوا پر ٹیکس طلب کیا گیا ہے اور یہ نوٹس ویسٹ پاکستان ٹیکس ایکٹ انیس سو چونسٹھ کے تحت جاری کیا گیا ہے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ یہ ٹیکس ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا جبکہ یہ کارخانے بجلی خرچ نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کرتے ہیں اس بناء پر یہ ٹیکس ان پر لاگو نہیں ہوتا لہذا اسے کالعدم قرا ر دیا جائے ۔