21-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے تریانوے دیر کے ترقیاتی فنڈز میں امتیازی سلوک برتنے پر خیبر پختونخوا حکومت سے دس روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔

جسٹس قیصر رشید اورجسٹس غضنفر خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے رکن صوبائی اسمبلی صاحبزادہ ثناء اللہ کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار دیر بالا سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور ان کا تعلق حزب اختلاف سے ہے اور صوبائی اسمبلی نے دیر کے مختلف حلقوں کے لئے ترقیاتی فنڈز مختص کئے جن کی مجموعی مالیت ایک ہزار پچاس ملین روپے بنتی ہے تاہم درخواست گزار کے حلقے کےلئے دس فیصد سے بھی کم حصہ رکھا گیا ہے حالانکہ اس حلقہ کو بھی دیگر حلقوں کے برابر فنڈز مہیا کئے جاتے لیکن فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم کی گئی ہے جسے کالعدم قرار دیا جائے ۔