30-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے ون پشاور ون کےلئے ایک ارب روپے ترقیاتی فنڈز دوسرے اضلاع منتقل کرنے کے خلاف دائررٹ کی سماعت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو جواب جمع کرانے کےلئے مہلت دیتے ہوئے حلقے کے ترقیاتی فنڈ کا ریکارڈ طلب کرلیاہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے فنڈز ختم کرنے کےسے متعلق  صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی رپورٹ بمعہ دستاویزات آئندہ سماعت پر پیش کرنے کے احکامات بھی جاری کئے ۔رکن صوبائی اسمبلی پی کے ون پشاور ضیاء اللہ آفریدی کی جانب سے دائر رٹ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ دو ہزار پندرہ میں وزیر اعلی نے صوبائی اسمبلی سے پی کے ون کےلئے ایک ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کےلئے فنڈز منظور کئے جس میں سے بیس ملین روپے ریلیز کر دیئے گئے تاہم باقی رقم ختم کر دی گئی

دوران سماعت چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی نے استفسار کیا کہ آیا اسمبلی سے پاس شدہ فنڈز کو دوبارہ اسمبلی سے ختم کیا جا سکتا ہے جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ یہ فنڈز لیپس ہو گئے جس کی بنیاد پر اسمبلی نے دوبارہ اس فنڈز کو ختم کیا ۔ جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر اسمبلی ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی اور سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔