20-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے بچوں سے جبری مشقت لینے کے خلاف دائر رٹ درخواست پر صوبائی حکومت سے گھروں میں کام کرنے والے بچوں سے متعلق پالیسی طلب کر لی ہے ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کوبتایا کہ رٹ کے جواب میں صوبائی حکومت نے جواب داخل کر رکھا ہے تاہم گھروں میں کام کرنے والے بچوں سے متعلق پالیسی حکومت سے طلب کی گئی ہے جو عدالت میں جمع کرادیا جائے گا۔

درخواست گزار نے رٹ میں موقف اپنایا کہ ملک میں اس وقت پچیس ملین بچے سٹریٹ چائلڈ کی فہرست میں آتے ہیں اور ان کے حقوق کی تحفظ کرنے والاکوئی نہیں جبکہ انیس سو چیانوے میں ہونے والے سروے کے مطابق تینتیس لاکھ بچے جبری مشقت کا شکار ہیں اس لئے فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ صوبائی حکومت  کو حکم دیا جائے کہ وہ  کمسن بچوں کا سروے کرائے  اور گھروں اور دیگر مقامات پر کام کرنے والے بچوں کے اعداد و شمار سامنے لائے جائیں اور ان کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے ۔