03-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی اسمبلی سے ایکٹ کی منظوری کے باوجود خواتین کو ہراساں کرنے واقعات سے متعلق صوبائی خاتون محتسب کی تقرری نہ کرنے پر صوبائی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے ۔ عدالت نے ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا ہے کہ اس بات کی وضاحت کی جائے کہ قانون کی سات سال پہلے منظوری کےباوجود تقرری عمل میں کیوں نہیں لائی گئی ۔

چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خواتین کے لئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے دو ہزار دس میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پر قابوپانے اور اس جرم کے مرتکب افراد کو سزا دینے کے لئے قانون پاس کیا تھا جس کے تحت ایک خاتون محتسب کی تقرری بھی عمل میں لائی جانی تھی تاہم گزشتہ سات سالوں سے یہ معاملہ التواء کا شکار ہے ۔