01-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی اسمبلی سے ایکٹ کی منظوری کے باوجود خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات سے متعلق صوبائی خاتون محتسب  کی تقرری نہ کرنے پر صوبائی حکومت کو دوبارہ نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیاہے ۔عدالت نے صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ واضح کریں کہ قانون کی سات سال پہلے منظوری کے باوجود صوبائی خاتون محتسب کی تقرری عمل میں کیوں نہیں لائی گئی ؟

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے خواتین کے حقوق کےلئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے دو ہزار دس میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پر قابو پانے اور اس جرم کے مرتکب افراد کو سزا دینے کےلئے قانون پاس کیا تھا جس کے تحت ایک خاتون محتسب کی تقرری بھی عمل میں لائی جانا تھی لیکن سات سال سے یہ معاملہ التواء کا شکار ہے لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ صوبائی خاتون محتسب کی تقرری عمل میں لانے کے احکامات جاری کئے جائیں ۔