21-04-2017

پشاور ہائی کور ٹ نے صوبائی حکومت کو صوبہ کی مختلف یونیورسٹیوں کےلئے وائس چانسلرز کی تقرریوں سے روکتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے ۔

جسٹس روح الاآمین خان اورجسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پروفیسر ڈاکٹر منصور ، ڈاکٹر محمد شفیق اور پروفیسر ڈاکٹر اے زیڈ ہلالی و دیگر درخواست گزاروں کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس  میں عدالت کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے نو مختلف سرکاری جامعات میں وائس چانسلر ز کی تقرری کےلئے اشتہار دیا اور درخواستیں طلب کیں جبکہ یہ کام اکیڈیمک سرچ کمیٹی کے حوالے کیا گیا جس کے سربراہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ہیں ۔ اس کمیٹی نے وائس چانسلر کی پوسٹ کےلئے ایک طریقہ کار وضع کیا جس میں اکیڈمل ، تجربہ اور دیگر امور شامل تھے تاہم یہ طریقہ کار کہیں پر بھی تحریری شکل میں موجود نہیں اور کمیٹی نے خود سے ہی وائس چانسلرز تقرری کےلئے مختلف امور طے کئے ۔عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار تجربہ اور اہلیت کے باوجود نظر انداز کئے گئے اور انہیں نہ تو شارٹ لسٹ کیا گیا اور نہ ہی انٹرویو کےلئے بلایا گیا اس طرح قانون کے تحت وائس چانسلرز کی تقرری کےلئے مقررہ طریقہ کار کو سرے سے اپنایا ہی نہیں کیا گیا لہذا عدالت سے استدعا ہے کہ تمام ممکنہ تقرریوں کو کالعدم قرار دیا جائے اور درخواست گزارو ں کو بھی انٹرویو میں شامل ہونے کو موقع فراہم کیا جائے ۔