21-04-2017

پشاور ہائی کور ٹ نے ایف آر ٹانک کی مختص نشستوں پر دو ہزار چودہ میں داخلہ لینے والی طالبات کا داخلہ درست قرار دے دیا اور داخلے کے خلاف رٹ درخواست خارج کر دی ۔

چیف جسٹس پشاو رہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ دو ہزار چودہ میں ایف آر ٹانک کی مخصوص نشستوں پر دیگر طالبات کو خیبر پختونخوا کے مختلف میڈیکل کالجوں میں داخلہ دیا گیا حالانکہ ان کا تعلق ایف آر ٹانک سے نہیں تھا جو کہ غیر قانونی اقدام ہے اور اس پر درخواست گزارہ کا حق بنتا ہے ۔

دوسری طرف داخل طالبات کے وکیل نے موقف اپنایا کہ جو داخلہ دیا گیا وہ جائنٹ ایڈمیشن کمیٹی نے تمام تقاضے اور اہلیت پورے کرنے کے بعد دیا اور اس حوالے سے پولیٹکل ایجنٹ ایف آر ٹانک نے بھی ان داخلوں کو قانونی قرار دیا ہے اور اب یہ طالبات گزشتہ تین سال سے ان کالجوں میں زیر تعلیم ہیں ۔

عدالت نے دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے پر رٹ پٹیشن خارج کر دی اور داخلوں کو درست قرار دے دیا ۔