July 23, 2018

Khyber Pakhtunkhwa Judicial Academy, Peshawar
BROADCAST TIMING

Morning : 08:00AM to 11:00AM | Evening : 03:00PM to 07:00PM
Call Now: 091-9211654 | Email us: info@radiomeezan.pk

صوبے کےینگ وکلاء کےلئے”” اے ڈی آر “” پانچ روزہ تربیتی کورس اختتام پذیر ، تقریب حلف برداری جسٹس روح الاآمین مہمان خصوصی

12-01-2018

خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں  صوبے کے ینگ وکلاء کے لئے پانچ روزہ خصوصی تربیتی پروگرام  مکمل ہو گیا ہے۔

اے ڈی آر یعنی “متبادل تنازعاتی حل” کے موضوع پر پانچ روزہ خصوصی تربیتی پروگرام میں صوبہ  کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پچاس ینگ وکلاء شریک  ہوئے۔

پانچ روزہ تربیتی پروگرام کی  اختتامی تقریب خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور میں منعقد ہوئی جس میں پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس روح الاآمین خان بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے جبکہ ڈین فیکلٹی سید انیس بادشاہ بخاری اور سینئر ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ضیاء الرحمان سمیت اکیڈمی کے دیگر افسران بھی اختتامی تقریب میں  شرکت ہوئے ۔

افتتاحی تقریب سے اپنے خطاب میں ڈین فیکلٹی  سید انیس بادشاہ بخاری نے نے شرکاء کو  پانچ روزہ خصوصی کورس مکمل کرنے پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ  وکلاء کےلئے یہ تربیتی پروگرام اپنی نوعیت اہم ترین تربیتی پروگرام ہے  اور امید  ہے کہ اس پانچ روزہ تربیتی پروگرام سے نہ صرف شرکاء کے علم میں اضافہ ہوا گا بلکہ ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ڈین فیکلٹی نے کہا کہ وکلاء نظام انصاف کا اہم جزو ہے جو عدالتوں کی انصاف کی فراہمی کے عمل میں معاونت کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی کو ججز سمیت جسٹس سیکٹر کے تمام سٹیک ہولڈرز کی ٹریننگ کی مینڈیٹ حاصل  ہے اور اکیڈمی جوڈیشل ایجوکیشن کی فراہمی کا مرکز ہے جبکہ ججز کے لئے جیسے پری سروس ٹریننگ ضروری امر ہے اسی طرح شعبہ وکالت میں قدم رکھنے والے وکلاء کےلئے بھی ان کی پیشہ وارانہ ٹریننگ کی اشد ضرورت ہوتی ہے لہذا اس اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جوڈیشل اکیڈمی پشاور نے ینگ وکلاء کےلئے اے ڈی آر کے موضوع پرخصوصی ٹریننگ کورس مرتب دیا ہےاور اس تربیتی کورس میں پشاور ہائی کورٹ کی پالیسی کے مطابق دوردراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے ینگ وکلاء کو شامل کیا گیا ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس روح الاآمین خان نے کہا کہ انصاف کی فراہمی صرف ججز کا کام نہیں بلکہ وکلاء کے علاوہ نظام انصاف سے منسلک دیگر سٹیک ہولڈرز کا بھی کام ہے ، وکلاءانصاف کی فراہمی میں معاونت فراہم کرتے ہیں اور وکیل کی معاونت کے بغیر ججز کیس فیصلہ نہیں کر سکتے اور انصاف کی فراہمی میں وکلاء کی برابر  ذمہ داری بنتی ہے ۔ جسٹس روح  الاآمین خان نے ججز ، وکلاء اور جسٹس سیکٹر کے دیگر سٹیک ہولڈرز کو ٹریننگ فراہمی کے عمل میں خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی پشاور کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان تربیتی پروگراموں سے معاشرے میں انصاف کی رسائی آسان ہو جائے گی انہوں کا کہنا تھا کہ ایف بی آر اور بینکنگ کورٹس کے بہت سے کیسز اے ڈی آر کے تحت حل کرنے میں کافی کامیابی حاصل ہوئی ہے انہوں نے ٹریننگ مکمل کرنے والے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو اس ٹریننگ کورس سے سیکھا وہ آگے پھیلائیں ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس کورس سے شرکاء کی پیشہ وارنہ صلاحتیوں میں اضافہ ہوگا ۔

 بعد میں جسٹس روح الاآمین خان نے پانچ روزہ تربیتی کورس مکمل کرنے والے ینگ وکلاء میں سرٹیفیکٹس بھی تقسیم کیں جبکہ ڈین فیکلٹی سید انیس شاہ بخاری نے اکیڈمی کی جانب سے جسٹس روح الاآمین خان کو شیلڈ دیا گیا ۔

Related posts