24-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے میں قائم ٹیکسٹائل ملز سے بجلی کے پیداواری یونٹس پر ٹیکس وصولی روک دی اور اس ضمن میں صوبائی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دورکنی بنچ نے چھ ٹیکسٹائل ملوں کے مالکان کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ ملک میں بجلی بحران  جاری ہے اور اس قلت پر قانو پانے کےلئِے صوبہ بھر کی ملوں میں بجلی پیدا کرنے کےلئے جرنیٹر خریدے گئے ہیں تاہم صوبائی حکومت اس پر مختلف اقسام کے ٹیکس عائد کر رہی ہے اور انہیں ٹیکسوں کی ادائیگی کا کہا جا رہا ہے حالانکہ بجلی وفاقی حکومت کے تحت آتی ہے اور اس پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف وفاق کو حاصل ہے اور صوبائی حکومت کسی قسم کا ٹیکس عائد نہیں کر سکتی ہے جبکہ بجلی پیداوار  کےلئے جو جرنیٹر لگتا ہے اس کےلئے ذاتی وسائل استعمال کرتے ہیں ۔اسی طرح یہ ٹیکس دیگر صوبوں میں عائد نہیں ہے اور لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی پنجاب حکومت کے اس نوعیت کے ٹیکس کو معطل کر چکی ہے لہذا اس ٹیکس کی وصولی کو کالعدم قرار دیا جائے ۔عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد ٹیکس کی وصولی معطل کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے جواب طلب کر لیا۔