07-06-2018

پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ کے جسٹس قلندر علی خان اور جسٹس محمد غنضفرخان پر مشتمل  دو رکنی بنچ نے ضلع سوات کی تین قومی اور پانچ صوبائی حلقوں کے انتخابی حلقہ بندیوں پر الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیااورضلع بونیر کی انتخابی حلقہ بندیوں کے حوالے سے رٹ خارج کردی ۔

فاضل عدالت نے  سوات کے حلقہ این اے 2,3,4 اور پی کے 4,5,6,7 اور 8 کے لئے دائر رٹ کو منظور کرتے ہوئے اپنے مختصر فیصلہ میں الیکشن کمیشن کی حلقہ بندیوں کے فیصلہ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمات کو ان ہدایات کے ساتھ الیکشن کمیشن کو ریمائنڈ کردیا کہ الیکشن کمیشن تمام درخواست ہائے فریقین کو دوبارہ سننے کا موقع فراہم کرنے کے بعد فیصلہ کرے۔ جہاں پر حلقہ بندیوں میں کوتاہی ہوئی ہو اور غلط حلقہ بندیاں مرتب کی گئی ہوں، وہاں پر الیکشن کمیشن از سر نو جائزہ لے کردوبارہ حلقہ بندیاں کرے۔