18-08-2017

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اکرام اللہ خان نے کہا ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی مشروم گروتھ ہو رہی ہے جس کا بنیادی مقصد سادہ لوح عوام اور طلباء کے والدین سے بڑی بڑی رقمیں وصول کرنا ہے اور اس طرح تعلیم کے نام پر لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے جبکہ حکومت صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے ۔

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ حکومت کو چاہیئے کہ ان اقدامات کا نوٹس لے ہم طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی کسی کو اجازت نہیں دے سکتے اگر حکومت پھر بھی خاموش رہی تو عدالت خود ایسے اداروں کے خلاف ایکشن لے گی اور انہیں بند کر دیا جائے گا۔

فاضل جج نے پشاور کے نجی تعلیمی ادارے کے سترہ طلباء کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزاروں کو تھرڈ سمسٹر سے چوتھے سمسٹر میں ترقی دی گئی ہے اور ماہانہ فیس بھی وصول کر چکے ہیں تاہم جب وہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ تھرڈ سمسٹر میں وہ فیل ہیں اس طرح ادارے نے فیل شدہ طلباء کو کامیاب ظاہر کرکے فیسوں کی مد میں لاکھوں روپے وصول کر لئے ہیں لہذا فاضل عدالت سے استدعا ء ہے کہ فی طالب علم سے وصول کی گئی  ایک لاکھ ساٹھ ہزار  روپے  کی رقم واپس دلائی جائے اور طلباء کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے ۔

فاضل عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو طلب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ اس ادارے کا انسپکشن کرکے جامع رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے ۔