17-05-2017

اسلام آباد ہائی کورٹ نے دس سالہ گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے مقدمے میں اسلام آباد کے سابق ایڈشنل سیشن جج راجہ خرم علی اور اُن کی بیوی پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ جبکہ عدالت نے تشدد کا شکار ہونے والی بچی طیبہ کے والدین کی طرف سے صلح نامہ بھی مسترد کر دیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں صلح نامہ ایک دباؤ کے تحت کیا گیا تھا جسے کسی طور پر بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ملزمان کی موجودگی میں ان پر فرد جرم عائد کی جس سے انھوں نے انکار کیا۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 19 مئی تک ملتوی کردی ہے جس میں گواہان کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نےکمسن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور خان کاسی کو حکم دیا تھا کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس مقدمے کی سماعت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں کروائی جائے، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس مقدمے کے ملزم اور ایڈشنل سیشن جج راجہ خرم علی کے خلاف مقدمے کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں کروانے کا حکم دیا تھا۔