30-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نےعبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے طالب علم مشال خان قتل کیس کی سماعت مردان سے دوسرے ضلع منتقل کرنے کےلئے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت گیارہ جولائی تک ملتوی کردی ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مقتول مشال خان کے والد اقبال خان کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ مشال خان قتل کیس کی سماعت مردان کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں جاری ہے تاہم ملزموں کی جانب سے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے اور راضی نامہ کےلئے دباو ڈالاجارہا ہے اس بناء پر قتل کیس کی سماعت مردان کی بجائے ہری پور یا کسی دوسرے ضلع میں کی جائے جبکہ صوبائی حکومت اس حوالے سے اپنی آمادگی بھی ظاہر کر چکی ہے ۔دوران سماعت قتل مقدمے کے ملزموں کی جانب سے متعدد وکلاء نے وکالت نامے پیش کئے اور موقف اپنایا کہ انہیں بھی سنا جائے کیونکہ تریاسٹھ  افراد کو قتل میں ملزمان نامزد کیا گیا ہے اور ان کا ہری پور مقدمے کی سماعت کےلئے آنے جانےسے مشکلات پیدا ہوں گی ۔ فاضل عدالت نے ملزموں کے وکلاء کو موقف سننے کےلئے سماعت گیارہ جولائی تک ملتوی کردی ۔