09-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے وائس چانسلر اور رجسٹرار سمیت چار اعلی عہدیداروں کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری روکتے ہوئے ان کو عبوری ضمانت قبل از گرفتاری دے دی ہے۔

جسٹس روح الاآمین خان اور جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے وائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان ڈاکٹر احسان علی ، رجسٹرار عرش الرحمان ، ڈین ڈاکٹر جہانزیب اور پروفیسر ظہور کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی ۔

عدالت کو بتایا گیا کہ نیب نے مختلف امور میں انکوائری شروع کی تاہم بعض اطلاعات کے مطابق درخواست گزاروں کو آئی ٹی کےلئے آلات کی خریداری سے متعلق ریفرنس میں گرفتار کرنے کا خدشہ ہے لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ انہیں ضمانت قبل از گرفتاری دی جائے ۔

اس موقع پر سینئر پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کوبتایا کہ اس حوالے سے فی الحال کوئی گرفتاری نہیں کی جا رہی اور وہ اپنا جواب اگلی سماعت سے قبل عدالت میں جمع کر ا دیں گے اس لئے انہیں جواب جمع کرانے کےلئے مہلت دی جائے ۔عدالت نے نیب کو درخواست گزاروں کی گرفتاری سے روکتے ہوئے نیب سے جواب طلب کر لیا جبکہ درخواست گزاروں کو بیس لاکھ روپے مالیت کے مچلکے جمع کرانے کے احکامات دیتے ہوئے سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔