28-07-2017

پشاور ہائی کورٹ نے عبد الولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان قتل کیس مردان سے انسداد دہشت گردی ایبٹ آباد کی عدالت منتقل کرنے اور ہری پور جیل میں مقدمے کی سماعت کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ احکامات مشال خان کے والد اقبال خان اور خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے دائر ایک ہی نوعیت کی دو مختلف درخواستوں پر جاری کئے ۔

دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیت جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ہری پور جیل کو محفوظ ترین جیل قرار دیا ہے اور وہاں مقدمے کی سماعت بہ احسن طریقے سے ہوسکتی ہے ۔ ایبٹ آباد میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت قائم ہے اور عدالت کے جج ہری پور جیل میں مقدمے کی سماعت کر سکتے ہیں تاہم مردان میں مقدمے کی سماعت اس لئے ممکن نہیں ہے کہ وہاں امن و امان کا مسئلہ بن سکتا ہے کیونکہ مشال قتل کیس میں نامزد ملزموں کے حامی بہت زیادہ ہیں اور مقدمے کی سماعت کےد وران کوئی بھی بدنظمی ہو سکتی ہے جبکہ استعاثہ کے گواہوں کی بھی فول پروف سیکیورٹی ناگزیر ہے اسی طرح جج کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیئے ۔

عدالت نے ملزمان اور مشال کے والد کے وکلاء سمیت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کی جانب سے دلائل مکمل ہونے پر مشال قتل کیس انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت مردان  سے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت ایبٹ آباد کی عدالت میں منتقل کرنے کا حکم دیا اور مقدمے کی سماعت ہری پور جیل میں کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔