26-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر احسان علی اور دیگر انتظامی افسروں کے خلاف دائر تمام ریفرنس یکجا کرنے اور نیب کی جانب سے علیحدہ علیحدہ تحقیقات کو کالعدم قرار دینے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس غضنفر علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ڈاکٹر احسان علی ، ایڈیشنل رجسٹرار عرش الرحمان ، پیر اسفندیار اور دیگر کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ نیب نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں بھرتیوں ، خریداری اور دیگر امور میں مبینہ بے قائدگیوں کے خلاف پشاور کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر رکھا ہے اور اب نیب پھر مختلف امور میں انکوائریاں کر رہی ہے تاہم نیب کی قانون کی شق سترہ ڈی کے تحت نیب جب کسی معاملے میں ایک مرتبہ تحقیقات کر لے تو پھر اس مدت کی دوبارہ تحقیقات کر بھی لے تو پہلے ہی ریفرنس میں ضمنی ریفرنس دائر کیاجائے گا اور ہر چیز کےلئے علیحدہ علیحدہ دائر کرنا غیر قانونی ہے۔