11-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے اسلامیہ کالج کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے افغان طالب علم کو سال اول کی کلاسیں لینے کی اجازت دے دی جبکہ کالج انتظامیہ کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار سال اول کا طالب علم ہے جس نے اسلامیہ کالج میں افغان مہاجرین کی نشست پر داخلے کی درخواست دی اور میرٹ پر بھی آیا تاہم اس کے باوجود اس کو داخلہ اس بناء پر نہیں دے رہے کہ اس کے پاس افغانی پاسپورٹ نہیں ہے حالانکہ کالج کے پراسپیکٹس میں افغان شہری کے لئے پاسپورٹ کا ذکر نہیں ہے جبکہ پاسپورٹ کم از کم تین ماہ میں بنتا ہے اور اگر درخواست پاسپورٹ کےلئے افغانستان جائے تو اس کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا اندیشہ ہے اسی طرح درخواست گزار کے پاس افغان مہاجر کا رڈ ، رجسٹرڈ اور این او سی بھی جاری ہو چکا ہے لہذا طالب علم کو کلاسیں لینے کی اجازت دی جائے ۔