28-01-2017

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ آرٹیکل 4 کے مطابق کسی جج کو اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی خواہش اور منشاء کے مطابق فیصلہ کرے۔بلکہ جج، قانون اور آئین کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوتا ہے، ہم نے قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرنے کی قسم کھائی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ بار او بنچ لازم و ملزوم ہے ، وکلاء کے مسائل حل کریں گے، بار کو سہولت دینا ہم پر فرض ہے۔انہوں نے کہا کہ فیصلوں میں تاخیر سے سائلین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انصاف کرنا اور جلد کرنا ججز کا کام ہے۔  مقدمات جلد نمٹانے کیلئے وکلاء کا تعاون چاہئے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا  کہ عدلیہ آزاد اورخود مختارادارہ ہے، پاکستان کی عدلیہ دنیا کی کسی عدلیہ سے کم نہیں، ہمیں اپنی عدلیہ پر فخر ہے۔ فرائض کی انجام دہی کیلئےکوتاہی نہیں کریں گے، عدالت میں کوئی خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری میں آتا ہے، حلف لینے کےایک ہفتے بعد سپریم کورٹ اسٹاف سے میٹنگ کی۔چیف جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ ریاست کی بقا کے لیے آزاد عدلیہ ناگزیر ہے۔