20-04-2018

چیف جسٹس  پاکستان نے خیبرپختوانخوا میں عطائی ائی ڈاکٹروں کیخلاف ایک ہفتے کے اندر کارروائی کرنے اور پشاور کا پانی پنجاب سے ٹیسٹ کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس میاں  ثاقب نثار نے  کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں عطائی ڈاکٹروں ، اسپتال کی حالت زار،صاف پانی کی فراہمی سمیت مختلف کیسز کی سماعت کی۔ اس دوران چیئرمین ہیلتھ کیئر کمیشن  پیش ہوئے۔ چیف جسٹس کے استفسار پر چیئرمین ہیلتھ کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں 15 ہزار عطائی ڈاکٹر ہیں۔  جن میں  سے 122 پر پابندی لگائی  ہے۔

چیف جسٹس  پاکستان چیئرمین ہیلتھ کمیشن  کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہ آپ کی 5 لاکھ روپے اور کام صفر ہے، چیف جسٹس  نے  ہدایت کی کہ ایک ہفتے میں عطائیوں کے خلاف کار روائی  چاہئیں، کوئی اسٹے آرڈر جاری نہیں کریں گے، کسی نے اسٹے آرڈر لینا ہے تو سپریم کورٹ آئے، پورے صوبے میں عطائیوں کو بند کریں۔ مجھے ان کے خلاف انکوائری رپورٹ چاہئیے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کیا کام کر رہا ہے؟ اگر ہیلتھ کیئر کمیشن کام نہیں کرسکتا تو استعفیٰ دے۔

صاف پانی کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نےہدایت کی کہ پانی لیبارٹری سے چیک کروائیں ،چیف جسٹس نے کہا  کہ آپ کے پاس نہ لیب ہے، نہ اعلیٰ مشینری تو کیسے پانی ٹیسٹ کرواتے ہیں؟ چیف جسٹس نے پشاور کے مختلف مقامات سے پانی کے نمونے لینے کا حکم دیتے ہوئے پنجاب سے ٹیسٹ کروانے کا حکم دے دیا۔