04-05-2017

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبے کے مختلف اضلاع میں غیر فعال ٹیکنکل کالجز کو پاکستان ایئر فورس کے حوالے کرنے کے اقدام کو درست قرار دے دیااور قرار دیا کہ ان ملازمین کے تبادلوں کا اختیار ٹیکنکل ایجوکیشن اینڈ وکیشنل اتھارٹی کے پاس ہی رہے گا۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس روح الاآمین خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائررٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ صوبے میں فنی تعلیم کے فروغ کےلئے ٹیوٹا کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے تحت اس اتھارٹی نے بورڈز آف ڈائریکٹر ز کو وسیع پیمانے پر اختیارات دیئےاور جس قانون کے تحت یہ فیصلے کئے گئے اس میں بھی قرار دیا گیا کہ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تعلیم کی بہتری کےلئے مختلف اداروں کو چلا سکتی ہے لیکن حکومت نے اس کے برعکس ان کالجوں کا انتظام پاکستان ایئر فورس کے حوالے کیا گیا جو کہ غیر قانونی ہے اور اب ان کالجوں کے ملازمین کو بھی ایئر فورس کی جانب سے تبادلے کے احکامات جاری کئے جا رہے ہیں جو کہ مروجہ قوانین کےمنافی ہے ۔ عدالت نے دنوں جانب سے دلائل کے بعد  صوبائی حکومت کے اقدام کو درست قرار دیا تاہم صوبائی حکومت کو ہدایت جاری کی کہ  ان ملازمین کے تبادلوں کا اختیار ٹیکنکل ایجوکیشن اینڈ وکیشنل اتھارٹی کے پاس ہی رہے گا۔