10-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے زمینوں کے غیر قانونی انتقالات کے الزام میں قید و جرمانی ی سزاپانے والے اسٹیبلشمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے چھ اہلکاروں کو دی گئی سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں مقدمہ سے بری کردیا ہے۔

جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر اپیل کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکار کی ملکیت کروڑوں روپے کی جائیداد مردان کے علاقے لونڈ خوڑ میں لوگوں کو غیر قانونی طور پر ٹرانسفر کی ہے جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا اور ماتحت عدالت نے ملزمان کو قید اور آٹھ کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ اس کیس میں زمین کے انتقالات حاصل کرنے والے افراد کو ملزم بنایا ہی نہیں گیا حالانکہ اصل فائدہ ان کو ہوا ہے جبکہ یہ مقدمات سول کورٹ میں بھی زیر سماعت ہیں لہذا ان کی سزاو جرمانہ کالعدم قرار دیا جائے ۔