21-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے غیر قانونی نجی میڈیکل یونیورسٹی کے خلاف قانونی کاروائی سے متعلق ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا ہے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار امام غزالی میڈیکل یونیورسٹی کے طلباء ہیں جو چار سال اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم رہ چکے ہیں اور اس عرصہ میں وہ سالانہ لاکھوں روپے فیس بھی ادا کر چکے ہیں تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ امام غزالی میڈیکل یونیورسٹی پی ایم ڈی سی کے ساتھ رجسٹرڈ ہی نہیں ہے اور اس طرح ان طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے لہذا انہیں دیگر کالجوں میں ایڈجسٹ کیا جائے ۔جسٹس وقار احمد سیٹھ نے تعجب کا اظہار کتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے شہر میں چار سال تک اتنا بڑا ادارہ غیر قانونی طور پر چلتا رہا اور متعلقہ حکام کو اس کا پتہ ہی نہ چل سکا ، جو ان اداروں کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔عدالت نے ہائیر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کو نوٹس جاری کرکے اس بات کا جواب طلب کیا کہ اب تک اس نجی میڈیکل یونیورسٹی کے خلاف کیا قانونی کاروائی کی گئی ہے ۔