17-08-2017

پشاور ہائی کورٹ نے تھانہ یکہ توت سمیت تین تھانوں کے پولیس کو شہری کے گھر پر غیر قانونی چھاپے مارنے سے روک دیا اور ڈی ایس پی انوسٹی گیشن اور ایس پی سمیت تینوں تھانوں کے ایس ایچ اوز  کو ہدایت کی کہ کسی بھی شہری کے گھر پر چھاپہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جائے ۔

جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس عبد الشکور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے شہری کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار کے گھر پر یکہ توت ، پہاڑی پورہ اور فقیر آباد پولیس چھاپے مار کر ہراساں کر رہے ہیں۔

ایس پی سٹی شہزاد کوکب، ڈی ایس پی انوسٹی گیشن سٹی طاہر داوڑ اور تھانہ یکہ توت ، فقیر آباد اور پہاڑی پورہ کے ایس ایچ اوز عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالتی استفسار پر عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار کا بھائی کامران خان عادی مجرم ہے جس کی گرفتاری کےلئے پولیس ان کے گھر پر چھاپے مار رہی ہے اور یہ گھر درخواست گزار اور اس کے بھائی کا مشترکہ ہے ۔

عدالت نے شہری کو ہراساں نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست گزار شہری کو اپنے گھر میں دیوار تعمیر کرنے کی ہدایت کی تاکہ اس کے حقوق سلب نہ ہوں۔