09-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ہیپٹائٹس سی کےلئے مبینہ طور پر غیر معیاری ویکسین کی خریداری میں ملوث محکمہ صحت کے سابق ڈی جی سمیت پانچ افراد کو نیب کی جانب سے جاری کردہ کال اپ نوٹس کے خلاف دائر رٹ نمٹا دی ہے ۔

چف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواستوں کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے صوبے کے سرکاری ہسپتالوں کو سپلائی کرنے کے لئے ہپیٹائٹس سی کی غیر معیاری ویکسین کی خریداری کی تھی اور اس طرح قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی پہنچایا تھا ۔ اور اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ اس سے قبل از خود نوٹس بھی لے چکی ہے اور اس حوالے سے اینٹی کرپشن انکوائری بھی کر چکی ہے تاہم نیب نے درخواست گزاروں کو کال اپ نوٹس جاری کئے اور انکوائری شروع کی جو کہ غیر قانونی ہے کیونکہ ہائی کورٹ کی جانب سے شروع کی جانے والی تحقیقات سپریم کورٹ کالعدم قرار دے چکی ہے اور بعض درخواست گزاروں کو ضمانت پر رہائی بھی مل چکی ہے لہذا نیب کی کال اپ نوٹس کا کوئی جواز نہیں بنتا اس لئے اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ انیس دسمبر کو یہ انکوائری بند کر دی گئی ہے لہذا ان کے کال اپ نوٹس غیر موثر ہو چکے ہیں جس پر عدالت نے دائر درخواستیں نمٹا دیں۔