03-08-2017

پشاور ہائی کورٹ نے چھتیس لاکھ روپے فیس ادا کرنے کے باوجود غیر ملکی مائیننگ کمپنی کو لائسنس جاری نہ کرنے پر سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل معدنیات کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ہے ۔

جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخّواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار کی غیر ملکی  کمپنی کو  دو ہزار پانچ میں چترال میں قیمتی معدنیات کی کھدائی کےلئے سروے لیٹر جاری ہوا اور بعد میں دوہزار پندرہ میں معدنیات کی کھدائی کےلئے تین سال کےلئے لائسنس بھی جاری ہوا اور اس مدت میں وہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے جبکہ مدت مکمل ہونے پر لائسنس کی تجدید کےلئے درخواست دی اور اس حوالے سے فیسوں کی مد میں چھتیس لاکھ روپے بھی داخل کئے تاہم اس کے باوجود لائسنس جاری نہ ہوا اور لائسنس جاری نہ کرنے کا کوئی جواز بھی پیش نہیں کیا گیا ہے۔