03-03-2017

وفاقی کابینہ نے فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی سفارشات کی اصولی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد قبائلی علاقوں کو پانچ سال میں خیبرپختونخوا میں ضم کرنا ہے۔

فاٹا اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہاکہ 2018ء کے عام انتخابات میں فاٹا کے عوام کو خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپنے نمائندے منتخب کرنے کے قابل بنانے کیلئے ضروری آئینی ترامیم کی جائیںگی ۔فرنیٹئر کرائمز ریگولیشن کو نئے رواج نظام سے بدلا جائے گا۔سفارشات میں تمام عارضی بے گھر افراد کی اس سال تیس اپریل تک واپسی کا ہدف بھی شامل ہے جبکہ تعمیر نو کی سرگرمیاں 2018ء تک مکمل ہوںگی ۔فاٹا کی سماجی اور اقتصادی ترقی کا دس سالہ منصوبہ اس سال تیس اپریل تک تیارکرنے کیلئے گورنر خیبرپختونخوا کی سربراہی میں ماہرین کی ایک اعلی سطح کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔
فاٹا ترقیاتی منصوبے پرعمل درآمد کیلئے قومی مالیاتی کمیشن سے سالانہ بنیادوں پر وفاق کے مجموعی قابل تقسیم محاصل کا تین فیصد مختص کرنے پر غور کرنے کی درخواست کی جائے گی یہ فنڈز سرکاری شعبے کے تًرقیاتی پروگرام کے تحت مختص کردہ سالانہ اکیس ارب روپے کے علاوہ ہیں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ کار کو پارلیمنٹ کی منظوری سے فاٹا تک توسیع دی جائے گی ۔سٹیٹ بنک آف پاکستان فاٹا میں مزید شاخیں بنائے گا  جبکہ دیگر صوبوں کے تعلیمی اور صحت عامہ کے اداروں میں طلباء کا کوٹہ دوگناکیا جائے گا ۔