08-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان کو  خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے کارخانوں کے لئے قانونی مشیروں کی تقرری سے متعلق ڈیٹا  خیبر پختونخوا بار کونسل اور پشاور بار ایسوسی ایشن کو فوری طور پر فراہم کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پشاور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائررٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا کہ اس وقت فاٹا اور خیبر پختونخوا میں اٹھائیس سو کارخانے قائم ہیں اور قانون کے مطابق یہ لازم ہے کہ ہر کارخانہ اپنے عدالتی امور کےلئے ایک قانونی مشیر  رکھے گا لیکن زیادہ تر کارخانے لیگل ایڈوائزر کے بغیر چل رہے ہیں جبکہ ایسے وکلاء بھی موجود ہیں جن کے پاس تین سے زیادہ لیگل ایڈوائزریاں ہیں جو کہ بار کونسل رولز کے منافی ہیں لہذا ایک ایسا طریقہ کار وضع کرنا چاہیئے تاکہ زیادہ سے زیادہ وکلاء کو بطور قانونی مشیر  لیا جا سکے۔

عدالت نے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کو ریکارد  وکلاء کے فورمز کو فراہم کرنے جبکہ بار کونسل کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے ایک طریقہ کار وضع کرے کہ کس طرح کمپنیوں میں قانونی مشیروں کی تقرری کی جاسکتی ہے ؟