31-10-2017

پشاورہائی کورٹ نے فاٹا اورپاٹا سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو سول ججوں کے امتحان میں بیٹھنے کی مشروط اجازت دے دی۔

جسٹس اکرام اللہ اور جسٹس اعجازانورپرمشتمل دورکنی بنچ نے  دائررٹ درخواستوں کی سماعت کی۔جس میں عدالت کو بتایا گیاکہ پبلک سروس کمیشن نے خیبرپختونخوامیں سول ججوں کی تقرری کے لئے پوسٹیں مشتہرکی ہیں جس کے لئے مطلوبہ اہلیت تیس سال مقرر کی گئی ہے تاہم جو وکیل تجربہ رکھتے ہیں انہیں مزید دو سال کی رعایت دی گئی ہے مگرفاٹا اورپاٹاسے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو عمرمیں دو سال کی رعایت نہیں دی جارہی ہے حالانکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں بھی وفاقی حکومت نے ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کو تین سال کی رعایت دی ہے مگرصوبائی پبلک سروس کمیشن صرف وکلاء کی حدتک دو سال تک کی رعایت دینے کو تیارہے جبکہ فاٹاکے امیدواروں کو مزید دو سال کی رعایت نہیں دی جارہی ہے عدالت عالیہ نے درخواست گذاروں کو امتحان میں بیٹھنے کی مشروط اجازت دے دی اورپبلک سروس کمیشن کو امیدواروں کو رول نمبرسلپ جاری کرنے کے احکامات جاری کئے۔