14-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے فاٹا سیکرٹریٹ کی جانب سے پراجیکٹ ملازمین کی برطرفی کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے ملازمین کی پراجیکٹ کی مدت تک بحال رکھنے کے احکامات جاری کردیئے اور ہدایات جاری کیں کہ اگر حکومت اکتیس مارچ دو ہزار سترہ کے بعد پراجیکٹ کی مدت میں توسیع کرتی ہے تو بھی یہ ملازمین اپنی پوسٹوں پر بحال رہیں گے ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس قلندر علی خان پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے آر ایل سی آئی پراجیکٹ فاٹا کے ملازمین کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت نے دوہزار تیرہ میں آر ایل سی آئی پی کے نام سے پراجیکٹ شروع کیا جس کےلئے فنڈنگ ورلڈ بینک کر رہا ہے جبکہ پراجیکٹ کی مدت اکتیس دسمبر دو ہزار سولہ کو پوری ہونا تھی تاہم اس میں اکتیس مارچ دو ہزار سترہ تک توسیع دی گئی اور اس دوران ڈی جی پراجیکٹس نے سیکرٹری اکنامکس افیئر ز ڈویژن کو خط لکھا جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ اگر انہیں اجازت دی جائے تو پراجیکٹ کے موجودہ عملے کو فارغ کرکے نئی بھرتی کی جائے گی اور اس کو بنیاد بناکر ڈی جی پراجیکٹس نے انتیس دسمبر دو ہزار سولہ کو پراجیکٹ کے ملازمین کو فارغ کر دیا جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے لہذا فاضل عدالت سے استدعا کہ درخواست گزار ملازمین کو بحال کیا جائے اور پراجیکٹس ڈائریکٹر فاٹا کے اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے ۔