09-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں مختلف صنعتوں سے بجلی کے بلوں میں سیلز اور انکم ٹیکس کی وصولی میں دس جولائی تک توسیع دیتے ہوئے تمام رٹ درخواستیں کارپوریٹ کمشنر ان لینڈ ریونیو کو ارسال کر دیں ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس محمد غضنفر خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے فاٹا کی مختلف صنعتی یونٹوں کے مالکان کی جانب سے دائر رٹ درخواستوں کی سمات کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ ان صنعتوں پر سیلز اور انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا لیکن ٹیسکو نے جنوری دو ہزار سترہ اور فروری دو ہزار سترہ کے بجلی بلوں میں سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس بھجوائے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے کیونکہ قانون کے رو سے اگر اس قانون کو فاٹا تک وسعت دینی ہو تو اس کےلئے صدر مملکت کی منظوری لازم ہے لہذا انکم اور سیلزٹیکس کی وصولی کالعدم قرار دی جائے ۔