12-05-2017

پشاور ہائی کورٹ نے فاٹا میں کم طلباء والے سکولوں کی بندش کے خلاف دائر رٹ پر فاٹا سیکرٹریٹ سمیت متعلقہ حکام کو ان سکولوں کا دورہ کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں جبکہ ان سکولوں کے متعائنے کی تاریخوں کو پہلے سے مشتہر کرنے کی بھی ہدایات دی گئی ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ  جسٹس یحیی آفرید ی اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ فاٹا سیکرٹریٹ نے مختلف قبائلی ایجنسیوں میں وہ سکول جن میں طلباء کی تعداد تیس سے کم ہے انہیں دیگر سکولوں میں ضم کردیا ہے اور اس پالیسی سے مقامی سکولوں کو بالخصوص قریبی گھرانوں کی بچیوں نے سکول جانا چھوڑ دیا ہے اس لئے اس پالیسی کو کالعدم قرار دیا جائے ۔دوران سماعت ایڈیشنل ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس پالیسی کے حوالے سے چھ ماہ کی مہلت دی ہے کہ اگر ان سکولوں میں بچوں کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوا تو پھر انہیں بند نہیں کیا جائے گا۔اس پر چیف جسٹس پشاو رہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی نے  ریمارکس دیئےکہ  سکولوں اور حکومت کے ساتھ ساتھ اہل علاقہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سکولوں میں طلباء کی رجسٹریشن میں اضافہ کرائیں کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ بچے اپنی بنیادی حق سے محروم رہیں۔