13-03-2017

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی منظوری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

فاٹا کی مختلف ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے 5 قبائلی عمائدین کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں وفاق، صدر مملکت، وزیر اعظم، وزارت سیفران اور گورنر خیبر پختونخوا کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل (6)247 کے تحت قبائلی علاقوں کے ضم کرنے کے فیصلے کا اختیار صدر پاکستان، ان کے نمائندے یا صوبہ خیبرپختونخوا کے گورنر کو حاصل ہے جبکہ حکومت کا یہ دعویٰ کہ قبائلی افراد کی اکثریت فاٹا اور خیبرپختونخوا کے انضمام کی حمایت کرتی ہےدرست نہیں ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے فاٹا کو 5 سال کے اندر فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے سمیت فاٹا سے متعلق دیگر ترقیاتی، آئینی اور قانونی اصلاحات کی اصولی منظوری دی تھی۔