26-04-2018

پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فاٹا کی خواتین کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مخصوص نشستوں کا قانون پارلیمنٹ ہی لاسکتی ہے اور یہ عدالت کا اختیار نہیں ہے۔

پشاور ہائی کور ٹ کے جسٹس قیصر رشید اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مہرین روف آفریدی کی درخواست پر سماعت کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ فاٹا کی خواتین کے لیے بھی ملک کی دیگر خواتین جیسامخصوص کوٹہ دیا جائے تاکہ وہ بھی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فاٹا کی خواتین کے لیے قانون سازی کرسکیں۔عدالت نے اس موقع پر بتایا کہ ابھی فاٹا سے متعلق پورے خدوخال واضح نہیں ہیں اسلیئے آپ انتظار کریں۔ جسٹس قیصر رشید نے درخواست گزار کے وکیل کو بتایا کہ آپ کو پارلیمنٹ پر اعتماد ہونا چاہیے اور اچھی قانون سازی کرینگے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اس مقدمے کو واپس لینا چاہتا ہے جس پر عدالت نے مقدمہ نمٹا دیا۔