16-11-2017

سپریم کورٹ نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ملازمین کے پبلک سرونٹس ہونے یا نہ ہونے کا تعین کرنے کےلئے لارجر بنچ کی تشکیل کا حکم جاری کرتے ہوئے معاملہ چیف جسٹس آفس  بھجوا دیا ہےجبکہ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے  ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ میں اب ایسے مقدمات آرہے ہیں جو یہاں آنے کے قابل نہ تھے اور اس طرح کے مقدمات کی وجہ سے عدالت پر زیر التوء مقدمات کا بوجھ بڑھ گیا ہے ۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے دیئے گئے فیصلے کے خلاف فرنٹیئر کانسٹبلری کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ ایف سی کے ملازمین پبلک سرونٹس ہیں اس لئے مسول علیہ گل رقیب کو ہائی کورٹ کی بجائے فیڈرل سروس ٹربیونل سے رجوع کرنا چا ہیئے تھا کیونکہ  پشاور ہائی کورٹ اس کےلئے موزوں فورم ہی نہیں لہذا دائر اپیل منظور کی جائے ۔

مسول علیہ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ایف سی کے ملازمین پبلک سرونٹس کے زمرہ میں نہیں آتے لہذا ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کی جائے۔