28-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو ستائیس فروری دو ہزار سترہ کے فیصلہ کے تحت فلائی اورز سمیت دیگر پانچ پراجیکٹ کے ورک آرڈرز پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے سولہ مئی تک جواب طلب کر لیا ہے ۔

خیبر پختونخوا کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن میں عدالت کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت تین بڑے پراجیکٹس باب پشاور فیز تھری ، جمرود روڑ توسیع منصوبہ اور سروس روڑ متصل رنگ روڑ بغیر نیلامی کے این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو دیئے تھے جبکہ کیپراایکٹ دو ہزار بارہ کا بنیادی مقصد سرکاری پروکیورنمنٹ میں شفافیت اور احتساب برقرار رکھنا ہے اور ایکٹ کے سیکشن اٹھائیس اور تینتیس کے تحت اداروں کو پابند بنانا ہے کہ وہ نیلامی کے ذریعہ پروکیورنمنٹ کریں جن میں اشیاء اور سروسز کی خرید شامل ہیں تاہم صوبائی حکومت نے کیپرا ایکٹ دو ہزار بارہ کے منافی قانون بنایا ہے جس کے رول تین (دو) سی کے تحت کوئی بھی کنٹریکٹ سرکاری کنٹریکٹر کو بغیر کسی نیلامی کے دیا جائے گاجو کہ امتیازی سلوک کے مترادف ہے اور اس رولز کے تحت صوبائی حکومت نے این ایل سی اور ایف ڈبلیو او کو پانچ کنٹریکٹ دیئے ہیں۔ لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے ۔