20-06-2017

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ تین مجرمان کی اپیلیں خارج کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹ کو فوجی عدالتوں کی طرف سے سنائے گئے فیصلوں پر اپیلوں کی سماعت کا اختیار نہیں اور نہ ہی عدالت عالیہ بطور اپیلٹ کورٹ فوجی عدالتوں کے مقدمات میں شواہد کا دوبارہ جائزہ لے سکتی ہے ۔

جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے چار صفحات پر مشتمل حکم نامے میں  کہا کہ ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار اس وقت شروع ہوتا ہے جب آرمی ایکٹ انیس سو باون کے تحت سنائی گئی سزا جج کی موجودگی کے بغیر یا متعلقہ فورم پر نہ سنی گئی ہو ، کیس فوجی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہ آتا ہو اور اس نے سنا ہو اور بدنیتی ظاہر ہو رہی ہو۔سپریم کورٹ نے بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ یہ اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں کیونکہ بار بار عدالتی استفسارکے باوجود مجرمان کے وکلیل ایسا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کر سکے جس سے ثابت ہو کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے دوران آئین کے آرٹیکل دس اے کے تحت حاصل فیئرٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ تین مجرمان میں سے دو کو فوجی عدالت نے سزائے موت جبکہ ایک کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔