04-05-2017

پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے مجرم کی پھانسی روکتے ہوئے متعلقہ حکام سے گیارہ مئی تک جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس روح الاآمین خان پر مشتمل د ورکنی بنچ نے چار باغ سوات کے رہائشی کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کا بیٹا سید اکبر دو ہزار نو سے سیکیورٹی فورسز  کے تحویل میں ہے جو کہ پہلے لاپتہ تھا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پیتھام انٹرمنٹ سنٹر میں موجود ہے اور اس سے اہل خانہ کی دو مرتبہ ملاقات بھی کرئی گئی تاہم چند روز قبل اسے فوجی عدالت سے سزائے موت سنائی گئی حالانکہ اس کا بیٹے کا اپنے دفاع کےلئے کوئی موقع نہیں دیا گیا اس لئے فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ اس کی پھانسی روکی جائے ۔

عدالت نے دلائل کے بعد درخواست گزار کے بیٹے کی پھانسی روک دی اور متعلقہ حکام سے گیارہ مئی تک جواب طلب کرلیا۔