08-11-2017

پشاور ہائی کورٹ نے فیڈرل بورڈ آ ف ریونیو کو پیسکو سے ٹیکسز کی مد میں پانچ ارب روپے کی وصولی سے متعلق رٹ نمٹاتے ہوئے کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کے خلاف سنایا گیا فیصلہ برقرار رکھا ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس روح الاامین خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پیسکو کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ ایف بی آر نے پیسکو سے مطالبہ کیا تھا کہ ہرمہینے پیسکو اپنے کنزومر کا ڈیٹا ایف بی آر کے سسٹم میں اپلوڈ کیا کریں جس سے انکار کرتے ہوئے پیسکو حکام نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ کس طرح چالیس لاکھ کنزومرز کا ڈیٹا ایف بی آر کے سسٹم میں پر ماہ اپڈیٹ کر سکتے ہیں جس پر کمشنر ان لینڈ ریونیو نے پیسکو کی درخواست پر فیصلہ کیا کہ تمام صارفین کا نہیں بلکہ صرف نیشنل ٹیکس نمبر رکھنے والے صارفین کا ڈیٹا ڈالا جائے لیکن ایف بی آر نے یہ فیصلہ نہ مان کر پیسکو کو پانچ ارب روپے کا انکم ٹیکس جمع کرنے کا نوٹس بھیج دیا جو کہ غیر قانونی ہے لہذا اس کا غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے