03-05-2017

پشاور ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا احتساب کمیشن کے قائمقام ڈائریکٹر جنرل کی تقرری اور مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ قائمقام ڈی جی کی مدت ملازمت میں توسیع کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دی جائے ۔

مردان کے رہائشی امان شاہ کی جانب سے دائررٹ پٹیشن میں چیف سیکرٹری ، ڈی جی صوبائی احتساب کمیشن ، چیف احتساب کمشنر اور ڈائریکٹر ہیومن ریسورس/ قائمقام ڈی جی کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ قائمقام ڈائریکٹر جنرل صوبائی احتساب کمیشن میں بطور ڈائریکٹر ہیومن ریسورس تعینات ہوا تھا جسے بائیس نومبر دو ہزار سولہ کو بطور قائمقام ڈی جی احتساب کمیشن مقرر کیا گیا جو کہ غیر قانونی تقرری ہے جبکہ بعد میں انہیں بطور قائمقام ڈی جی توسیع دی گئی اور یہ توسیع ان کے ماتحت افسروں نے دی جبکہ قانونی طور پر مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار کمشنرز احتساب کمیشن کے پاس ہے اور اس طرح جو توسیعی اعلامیہ جاری ہوا ہے وہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل دو اے ، چار ، آٹھ اور پچیس کے منافی ہے لہذا رٹ پٹیشن منظور کرکے قائمقام ڈی جی احتساب کمیشن خیبر پختونخوا کی تقرری اور توسیع کالعدم قرار دی جائے ۔