11-04-2018

چیف جسٹس  پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار  نے کہا ہے کہ قاضی اپنے مرضی کے فیصلے نہیں کرتے بلکہ آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں ۔

کوئٹہ میں وکلا اور ججز سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان  کا کہنا  تھا کہ ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں 1908 میں جو قانون بنایا گیا اسے تبدیل کیا جائے، اس قانون پر ہی عمل کرلیں تو انصاف کی جلد فراہمی ممکن ہوسکے گی۔

 چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ سے لوگوں کو امید ہے کہ وہ انہیں انصاف دلائیں گے لیکن محسوس کر رہا ہوں ہم اپنی صلاحیتیں مطلوبہ معیار کے مطابق استعمال نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدل کی بنیادوں کو مضبوط نہیں کر پائے تو اللہ کے سامنے کیسے سرخرو ہوں گے، جس کا حق مارا گیا وہ عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے اور کئی کئی سال تک فیصلے کا انتظار کرتا ہے، اس کا کون ذمہ دار ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فراہمی انصاف میں تاخیر پر مجھ سمیت ہائیکورٹ اور دیگر عدالتوں کے ججز اس کے ذمہ دار ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بطور چیف جسٹس  برملا کہتا ہوں سول جج، جوڈیشل مجسٹریٹ اور چیف جسٹس کے کام میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتا، کسی بھی معاشرے میں انصاف ہونا ضروری ہے، ناانصافی پر مبنی معاشرہ نہیں چل سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان سے عدالتی اصلاحات کے آغاز کا اعلان کیا ہے، عدلیہ ریاستی ادارہ ہے جس کے بغیر اس کا قیام ناممکن ہے، کفرکا معاشرہ چل سکتا ہے مگر ظلم و ناانصافی کا معاشرہ نہیں چل سکتا۔