12-04-2018

پشاور ہائی کورٹ نے قبائلی علاقوں فاٹا میں عدالتی نظام نہ ہونے اور پولیٹکل انتظامیہ حکام کو عدلیہ کے اختیارات دینے کے خلاف دائر رٹ درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرکے اٹارنی جنرل پاکستان کو آئندہ سماعت پر عدالت طلب کرلیا ہے۔

جسٹس سید افسر شاہ اور جسٹس محمد ایوب پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے پروفیسر سید انور شاہ کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ فاٹامیں عدالتی نظام نہیں اور پولیٹکل حکام عدلیہ کے اختیارات استعمال کر رہے ہیں جو کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو پچھتر سب آرٹیکل تین کے خلاف ہے ۔ اسی طرح چودہ سال کے اندر حکومت کو عدلیہ اور ایگزیکٹو کے اختیارات کا تعین کرنا تھا تاہم ساٹھ سال گزرنے کے باوجود فاٹا میں عدالتی نظام نہ آسکا اور پولیٹیکل حکام کو عدلیہ کے اختیارات دینا غیر آئینی ہے لہذا اس کو کالعدم قرار دیا جائے ۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو بذریعہ اٹارنی جنرل پاکستان نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں آئندہ سماعت پر عدالت طلب کرلیا۔